حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے نجف اشرف کی حسینیہ اعظم فاطمیہ میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران عراق کے داخلی، علاقائی اور عالمی حالات سمیت مختلف اہم امور پر گفتگو کی۔
امام جمعہ نجف اشرف نے کہا: ہمارے معاشرے میں نام نہاد ہالووین کے عنوان سے ایسی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں جو ہماری دینی اور قومی ثقافت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان تقریبات میں شیطانی لباس، خوف و دہشت اور زندگی کی تمام اقدار سے دوری کو فروغ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: یہ نوجوان نسل کو بے مقصدیت اور کھوکھلے نظریات کی طرف دھکیلنے کے لیے درآمد کی جانے والی جاہلیت ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیر اخلاقی یلغار کے مقابلے میں واضح اور مؤثر موقف اختیار کرے۔
عراق کی داخلی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کرد جماعتوں، بالخصوص کردستان پیٹریاٹک یونین اور کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان اختلافات کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق، ان اختلافات کی بنیادی وجوہات میں حکومتی عہدوں کی تقسیم، انتظامی امور اور بغداد کے ساتھ تعلقات کا طریقۂ کار شامل ہیں۔
خطیب جمعہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور بغداد کے ساتھ تعلقات کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے مختلف طبقات کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: طلبہ، سرکاری ملازمین اور معاشی مشکلات سے دوچار افراد اپنے جائز مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: دسیوں ہزار طلبہ مالی بوجھ میں کمی، تعلیمی اداروں کی صورت حال بہتر بنانے اور فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مطالبات لے کر سڑکوں پر نکلے ہیں۔ اسی طرح ہزاروں پرانے فارغ التحصیل افراد، اعلیٰ تعلیمی اسناد رکھنے والے افراد، کنٹریکٹ ملازمین اور جزوقتی اساتذہ نے بھی احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراقی حکومت ان مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے مزید سنجیدہ اقدامات کرے گی تاکہ ملک کی معیشت اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بہتر بنایا جا سکے۔
نجف اشرف کے امام جمعہ نے بصرہ کی خدماتی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: گزشتہ کئی روز سے دسیوں ہزار افراد بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مطالبے پر دھرنا دیے ہوئے ہیں لیکن اس صوبے میں اسپتالوں کی شدید کمی ہے اور بڑی تعداد میں عارضی اسکول اب بھی قائم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: شمالی بصرہ کو بنیادی ڈھانچے کی شدید ضرورت ہے جبکہ بصرہ، ناصریہ اور عماره کو ملانے والی شاہراہ موت کی سڑک بن چکی ہے، جہاں روزانہ انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔
خطیب جمعہ نے کہا: بصرہ تیل کا دارالحکومت ہے لیکن بالخصوص شمالی بصرہ کے عوام بنیادی سہولیات کی خراب صورت حال سے پریشان ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت اور صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں اور ان عوام کی مشکلات کا ازالہ کریں جنہوں نے داعش اور دیگر دشمنوں کے خلاف جنگ میں ہزاروں شہداء پیش کیے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیا: «هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ» ترجمہ: نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟
بین الاقوامی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے امام جمعہ نجف اشرف نے کہا: اسلام کا غلبہ ناگزیر ہے اور اسلام ایک متبادل تہذیبی نظام پیش کرتا ہے۔ آج دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اس بات کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ عالمی نظام تبدیل ہو رہا ہے، جس پر اب تک اسلام دشمن بڑی طاقتوں کی حکمرانی رہی ہے۔
انہوں نے امریکہ میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے عبدالسید کی سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی اور ان کی باحجاب اہلیہ کا ذکر کیا۔ اس سے قبل نیویارک کے میئر کے طور پر زہران ممدانی کی کامیابی اور فلسطینی نژاد مسلمان و باحجاب خاتون عبیر قواس کی ریاست نیویارک کے حلقہ نمبر 12 میں کامیابی کو بھی اسی تبدیلی کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: ان کامیابیوں کے ذریعے اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر کی پالیسیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکی نائب صدر نے جنگ کو اپنی ناکامی کی بنیادی وجہ قرار دیا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔یاد رہے کہ یہ بیانات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہیں جن کی امریکی صدر نے بھی تائید کی ہے۔
حجت الاسلام سید صدرالدین قبانچی نے فرانس میں مہنگائی اور جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف جنگ میں فرانس کی شمولیت کے باعث ہونے والے بڑے اور شدید احتجاجی مظاہروں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، یورپ کے متعدد ممالک میں جاری یہ مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ یورپی یونین تحلیل کے قریب ہے اور امریکہ و یورپی یونین کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: ہم ایک نئے دور کے آغاز پر کھڑے ہیں، جو ان شاء اللہ مستقبل میں اسلامی بیداری اور نشاۃِ ثانیہ کی نوید لے کر آئے گا۔










آپ کا تبصرہ